غم جاناں سے رنگیں اور کوئی غم نہیں ہوتا

فگار اناوی

غم جاناں سے رنگیں اور کوئی غم نہیں ہوتا

فگار اناوی

MORE BYفگار اناوی

    غم جاناں سے رنگیں اور کوئی غم نہیں ہوتا

    کہ اس کے درد میں احساس بیش و کم نہیں ہوتا

    وہ ہیں کم ظرف جن کا شور نالہ کم نہیں ہوتا

    چمن میں پھول بھی تو ہیں انہیں کیا غم نہیں ہوتا

    کمال ضبط گریہ عظمت شان محبت ہے

    چھلک جائے جو پیمانہ وہ جام جم نہیں ہوتا

    یہاں تک دل کو عادت ہو گئی ہے بے قراری کی

    سکون زندگی میں بھی تڑپنا کم نہیں ہوتا

    تمہاری یاد ہی کے ساتھ دھڑکن بڑھ گئی دل کی

    تصور سے مزاج حسن تو برہم نہیں ہوتا

    خزاں کی الجھنیں گلچیں کا کھٹکا ہے مگر پھر بھی

    کلی کا باغ میں لطف تبسم کم نہیں ہوتا

    کچھ ایسی بات ہے صیاد جو ہم مسکراتے ہیں

    نہیں تو آشیاں لٹنے کا کس کو غم نہیں ہوتا

    نہ جانے کیوں تمہارے غم کو دنیا غم سمجھتی ہے

    مسرت سے تو اس کا مرتبہ کچھ کم نہیں ہوتا

    فگارؔ اس گلشن ہستی کا عبرت خیز عالم ہے

    کہ شبنم رو رہی ہے گل کا ہنسنا کم نہیں ہوتا

    مآخذ
    • کتاب : Harf-o-nava (Pg. 50)
    • Author : umesh bahadur sirivasto figaar unnavi
    • مطبع : Figaar Unnavi (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY