غموں میں کچھ کمی یا کچھ اضافہ کر رہے ہیں

عرفان ستار

غموں میں کچھ کمی یا کچھ اضافہ کر رہے ہیں

عرفان ستار

MORE BYعرفان ستار

    غموں میں کچھ کمی یا کچھ اضافہ کر رہے ہیں

    سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ ہم کیا کر رہے ہیں

    جو آتا ہے نظر میں اس کو لے آتے ہیں دل میں

    نئی ترکیب سے ہم خود کو تنہا کر رہے ہیں

    نظر کرتے ہیں یوں جیسے بچھڑنے کی گھڑی ہو

    سخن کرتے ہیں ایسے جیسے گریہ کر رہے ہیں

    تمہارے ہی تعلق سے تو ہم ہیں اس بدن میں

    تمہارے ہی لیے تو یہ تماشا کر رہے ہیں

    زوال آمادگی اب گونجتی ہے دھڑکنوں میں

    سو دل سے خواہشوں کا بوجھ ہلکا کر رہے ہیں

    سخن تم سے ہو یا احباب سے یا اپنے دل سے

    یہی لگتا ہے ہم ہر بات بے جا کر رہے ہیں

    تمہاری آرزو ہونے سے پہلے بھی تو ہم تھے

    سو جیسے بن پڑے اب بھی گزارا کر رہے ہیں

    ذرا پوچھے کوئی معدوم ہوتے ان دکھوں سے

    ہمیں کس کے بھروسے پر اکیلا کر رہے ہیں

    ہمیں روکے ہوئے ہے پاس ناموس محبت

    یہ مت سمجھو کہ ہم دنیا کی پروا کر رہے ہیں

    بجز سینہ خراشی کچھ نہیں آتا ہے لیکن

    ذرا دیکھو تو ہم یہ کام کیسا کر رہے ہیں

    ہمیں اس کام کی مشکل کا اندازہ ہے صاحب

    بڑے عرصے سے ہم بھی ترک دنیا کر رہے ہیں

    جو ہوگی صبح تو تقسیم ہو جائیں گے پھر ہم

    ڈھلی ہے شام تو خود کو اکٹھا کر رہے ہیں

    جنوں سے اتنا دیرینہ تعلق توڑ دیں گے؟

    ارے توبہ کریں عرفانؔ، یہ کیا کر رہے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY