گر کبھی فرصت ملے تو

حبیب کیفی

گر کبھی فرصت ملے تو

حبیب کیفی

MORE BYحبیب کیفی

    گر کبھی فرصت ملے تو

    دیکھ لینا گل کھلے تو

    کچھ سمجھ پایا نہ لیکن

    شکر ہے وہ لب ہلے تو

    دل کی بات نہ دل میں رکھنا

    کہہ دینا گر دل ملے تو

    کہلائیں گے آپ مسیحا

    میرا کوئی زخم سلے تو

    منتظر ہیں آپ کسی کے

    چل دیے ہی قافلے تو

    صدیوں تک چلتے رہتے ہیں

    چلنے والے سلسلے تو

    وہ نہ ہوگا جو ہوا ہے

    گر کبھی ہم پھر ملے تو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY