گر تری جنبش ابرو کا اشارہ ہو جائے

عدنان خالد

گر تری جنبش ابرو کا اشارہ ہو جائے

عدنان خالد

MORE BYعدنان خالد

    گر تری جنبش ابرو کا اشارہ ہو جائے

    ڈوبتے شخص کو تنکے کا سہارا ہو جائے

    ہم سے بد بخت کے حق میں کوئی تارا ہو جائے

    عین ممکن ہے کسی دن وہ ہمارا ہو جائے

    خواب میں آ کہ ہو نیندوں پہ بھروسہ بھی کوئی

    یار ملنے کا بس اک ایسے ہی چارہ ہو جائے

    اس سے پہلے کہ تجھے دل سے بھلا دیں ہم بھی

    اور پھر تیری جگہ کوئی ہمارا ہو جائے

    وہ جو حاصل نہ ہوا خیر کوئی بات نہیں

    وہ کسی اور کا ہو کیسے گوارا ہو جائے

    زندگی نیند سے اٹھ جائے اگر جان جہاں

    اس کے ہونٹوں پہ بس اک بوسہ تمہارا ہو جائے

    ہونے آئے تو بھلا کیا نہیں ہوتا ہے یہاں

    چاند بھی عشق کرے اور ستارہ ہو جائے

    ڈھونڈنے والے پریشان بہت ہیں عدنانؔ

    کیا یہ ممکن ہے کوئی ویسا خدارا ہو جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY