گرد کے عنوان سے کیوں مل رہی ہے گرد ساقی

ابان آصف کچکر

گرد کے عنوان سے کیوں مل رہی ہے گرد ساقی

ابان آصف کچکر

MORE BYابان آصف کچکر

    گرد کے عنوان سے کیوں مل رہی ہے گرد ساقی

    درد مندانی کی جانب آئے ہیں ہمدرد ساقی

    وہ جو ساغر ہاتھ میں لے چشم سے ہی جام ہوگا

    بارہا وہ محفلوں کی شان ہے مے فرد ساقی

    بزم خود کے موسموں کی رنگ و بو سرشار ہے یاں

    گرمیٔ مے نوش پا کر کچھ تو ہے واں سرد ساقی

    بے بدل بے اختیاراں کیا مجھے سر چور شیشہ

    مجھ کو پھر دے کر دوا کر تو دوا کو درد ساقی

    اشک عاجز ہوتے ہوتے عشق باعث کیوں نہ ہوگا

    ایک ہی دم سوز سے جو دیکھ لے بے پرد ساقی

    حضرت ناصح سے جا معلوم کر درد و کسک تو

    ایک ہے بے درد ساقی ایک ہے پر درد ساقی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY