گردش چرخ سے قیام نہیں

امداد علی بحر

گردش چرخ سے قیام نہیں

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    گردش چرخ سے قیام نہیں

    صبح گھر میں ہوں میں تو شام نہیں

    کبھی تو منہ سے بولئے صاحب

    بے دہن ہو تو کچھ کلام نہیں

    جاں بہ لب ہوں فراق دلبر میں

    صبح جیتا رہا تو شام نہیں

    کس کے زلفوں کے بال بکھرے ہیں

    میرے نبضوں میں انتظام نہیں

    روز و شب ذکر زلف و عارض ہے

    یہ کہانی کبھی تمام نہیں

    کیا رقیبوں سے میں جہاد کروں

    میرے ہم راہ وہ امام نہیں

    تیرا دیوانہ مر گیا شاید

    آج گلیوں میں ازدحام نہیں

    ہجر میں یہ شراب ہے تیزاب

    ہاتھ پر آبلہ ہے جام نہیں

    کیا سمجھ کر یہ ناز کرتے ہیں

    امردوں کا کوئی غلام نہیں

    ولولے تھے شباب تک اپنے

    اب ہماری وہ دھوم دھام نہیں

    اس طرف سے ہیں سجدے پر سجدے

    اس طرف سے کبھی سلام نہیں

    دل کو لے کر الگ ہوئے ایسے

    کہ کبھی تم کو ہم سے کام نہیں

    موج دریائے پائمالی ہے

    اس جفاکار کا خرام نہیں

    بوسہ لے کر مزا ملا مجھ کو

    حنظل اس کا ذقن ہے آم نہیں

    کس کے بل پر وہ شوخ ہے مغرور

    خط شب رنگ فوج شام نہیں

    بحرؔ بہکے ہوئے ہیں اہل دل

    نشۂ آب زر مدام نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY