غضب ہے دیکھنے میں اچھی صورت آ ہی جاتی ہے

امداد علی بحر

غضب ہے دیکھنے میں اچھی صورت آ ہی جاتی ہے

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    غضب ہے دیکھنے میں اچھی صورت آ ہی جاتی ہے

    نہیں روکے سے دل رکتا طبیعت آ ہی جاتی ہے

    بھرا ہے دل ہمارا دوستوں کی بے وفائی سے

    کہاں تک ضبط باتوں میں شکایت آ ہی جاتی ہے

    پڑے گا تیرے جی میں شک نہ سن غماز کی باتیں

    ہزار آئینہ ہو دل پر کدورت آ ہی جاتی ہے

    یہ کیا معلوم تھا یہ عشق سودائی بنائے گا

    کہیں ٹلتی ہے آنے والی آفت آ ہی جاتی ہے

    طلائی رنگ پر کیوں کر نہ ان لوگوں کو غرا ہو

    یہ زر وہ چہرہ ہے خاطر میں نخوت آ ہی جاتی ہے

    جنون عشق میں ہر چند کچھ غیرت نہیں لیکن

    جو کوئی تان کرتا ہے حمیت آ ہی جاتی ہے

    عجب روداد ہے اپنی بیاں کرتے ہیں ہم جس سے

    نکل آتے ہیں آنسو اس کو رقت آ ہی جاتی ہے

    نکل جائے نہ کیوں کر شہر سے مجنوں بیاباں کو

    بشر کو اپنی عریانی سے غیرت آ ہی جاتی ہے

    ہنسی اچھی نہیں دیکھو تمیز اس میں نہیں رہتی

    کہ منہ لگ چلنے میں بوسے کی نوبت آ ہی جاتی ہے

    لچکتے ہی کمر زلف رسا کی جھونک لینے سے

    اثر معشوق پن کا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے

    بہت اپنے کو شائستہ وہ غیروں میں بناتے ہیں

    طبیعت میں جو گرمی ہے شرارت آ ہی جاتی ہے

    کہاں تک نیک صحبت کا اثر ہوگا نہ انساں کو

    ملے تانبا جو سونے سے تو رنگت آ ہی جاتی ہے

    خدا صورت نہ دکھلائے مجھے آتش عذاروں کی

    ہزار ان سے ہے دل ٹھنڈا حرارت آ ہی جاتی ہے

    دعائے مغفرت جب مانگتے ہیں اس سے رو رو کر

    برابر جوش میں خالق کی رحمت آ ہی جاتی ہے

    کوئی محبوب اس کی جان کا سائل جو ہوتا ہے

    جھکا لیتا ہے بحرؔ آنکھیں مروت آ ہی جاتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY