گھائل ہے تیری شہزادی شہزادے

فوزیہ رباب

گھائل ہے تیری شہزادی شہزادے

فوزیہ رباب

MORE BYفوزیہ رباب

    گھائل ہے تیری شہزادی شہزادے

    تو نے جو ہر بات بھلا دی شہزادے

    ہر جانب ہو ایک منادی شہزادے

    تیری ہو گئی یہ شہزادی شہزادے

    ہنستے ہنستے روتی ہوں پھر ہنستی ہوں

    عشق نے کیسی مجھ کو سزا دی شہزادے

    آج بھی عرش کو دیکھا تیرا نام لیا

    آج بھی میں نے تجھ کو دعا دی شہزادے

    شام ڈھلے تو درد بھی اپنی آمد کی

    کر دیتا ہے روز منادی شہزادے

    ہم نے تو بس پیار کیا تھا پاپ نہیں

    لوگوں نے تو بات بڑھا دی شہزادے

    تجھ کو چاہا تو پھر ٹوٹ کے چاہا ہے

    شعلوں کو بھی خوب ہوا دی شہزادے

    قبر پہ روتے رہنے سے سکھ پاؤ گے

    تم نے کتنی دیر لگا دی شہزادے

    بولو آخر دل پر کیا کچھ بیتے گی

    تم نے جو ہر یاد مٹا دی شہزادے

    جتنی عمر ہے باقی وہ بھی تیرے نام

    جتنی تھی وہ تجھ پہ لٹا دی شہزادے

    آج ربابؔ کے لب پر چیخی خاموشی

    خاموشی نے تجھ کو صدا دی شہزادے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY