گھر میں جب بیٹیاں نہیں ہوں گی

بلقیس خان

گھر میں جب بیٹیاں نہیں ہوں گی

بلقیس خان

MORE BYبلقیس خان

    گھر میں جب بیٹیاں نہیں ہوں گی

    پیڑ پر ٹہنیاں نہیں ہوں گی

    غم سے سمجھوتا کر لیا دل نے

    اب یہاں سسکیاں نہیں ہوں

    میں کہ دور جدید کی لڑکی

    پاؤں میں بیڑیاں نہیں ہوں گی

    واپسی کا ہے سوچنا بے سود

    اب جلی کشتیاں نہیں ہوں گی

    اب دیوں کو بچانا واجب ہے

    آندھیاں مہرباں نہیں ہوں گی

    بارشوں کے سفر پہ نکلے ہو

    سر پہ اب چھتریاں نہیں ہوں گی

    یہ مسلسل رہیں گی میرے ساتھ

    ہجر میں چهٹیاں نہیں ہوں گی

    دست و بازو بنا ہے بھائی مرا

    کوششیں رائیگاں نہیں ہوں گی

    یا قلم ٹوٹ جائے گا بلقیسؔ

    یا مری انگلیاں نہیں ہوں گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY