گرتے ہوئے جب میں نے ترا نام لیا ہے

کوثر نیازی

گرتے ہوئے جب میں نے ترا نام لیا ہے

کوثر نیازی

MORE BYکوثر نیازی

    گرتے ہوئے جب میں نے ترا نام لیا ہے

    منزل نے وہیں بڑھ کے مجھے تھام لیا ہے

    مے خوار تو ہے محتسب شہر زیادہ

    رندوں نے یوں ہی مفت میں الزام لیا ہے

    وہ مل نہ سکے یاد تو ہے ان کی سلامت

    اس یاد سے بھی ہم نے بہت کام لیا ہے

    ہر مرحلۂ غم میں ملی اس سے تسلی

    ہر موڑ پہ گھبرا کے ترا نام لیا ہے

    تجھ سا کوئی رہبر نہیں اے دورئ منزل

    احسان ترا ہم نے بہر گام لیا ہے

    اے شیخ دل صاف یوں ہی تو نہیں ملتا

    ہم نے اثر روئے دل آرام لیا ہے

    سجدوں میں وہ پہلی سے حلاوت نہیں کوثرؔ

    جب سے اثر گردش ایام لیا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : mata-e-sukhan (Pg. 107)

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY