گو دور ہو چکا ہوں یاران انجمن سے

عروج زیدی بدایونی

گو دور ہو چکا ہوں یاران انجمن سے

عروج زیدی بدایونی

MORE BYعروج زیدی بدایونی

    گو دور ہو چکا ہوں یاران انجمن سے

    لیکن مفر نہیں ہے احساس کی چبھن سے

    حسن نظر کا جادو سر چڑھ کے بولتا ہے

    اصنام مرمریں بھی لگتے ہیں سیم تن سے

    غنچہ ہی پھول بن کر جان چمن ہوا ہے

    میں نے یقیں کی دولت پائی ہے حسن ظن سے

    آج ان کے راستوں میں کانٹے بچھے ہوئے ہیں

    کل تک جو کھیلتے تھے رنگینئ‌ چمن سے

    جیسے چمن سے نکہت جیسے صدف سے موتی

    ایسے جدا ہوا ہوں میں جنت وطن سے

    میں راز رنگ و بو سے نا آشنا نہیں ہوں

    مجھ کو گلہ بھی کب ہے پھولوں کی انجمن سے

    میری غزل عروجؔ اک تصویر عصر نو ہے

    میں نے اسے سنوارا تہذیب فکر و فن سے

    مآخذ :
    • کتاب : 1971 ki Muntakhab Shayri (Pg. 82)
    • Author : Kumar Pashi, Prem Gopal Mittal
    • مطبع : P.K. Publishers, New Delhi (1972)
    • اشاعت : 1972

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY