گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں

آرزو لکھنوی

گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں

آرزو لکھنوی

MORE BYآرزو لکھنوی

    گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں

    دیکھ کے جن کو نیند آ جائے وہ متوالی آنکھیں ہیں

    منہ سے پلا کیا سرکانا اس بادل میں بجلی ہے

    سوجھتی ہے ایسی ہی نہیں جو پھوٹنے والی آنکھیں ہیں

    چاہ نے اندھا کر رکھا ہے اور نہیں تو دیکھنے میں

    آنکھیں آنکھیں سب ہیں برابر کون نرالی آنکھیں ہیں

    بے جس کے اندھیر ہے سب کچھ ایسی بات ہے اس میں کیا

    جی کا ہے یہ باؤلا پن یا بھولی بھالی آنکھیں ہیں

    آرزوؔ اب بھی کھوٹے کھرے کو کر کے الگ ہی رکھ دیں گی

    ان کی پرکھ کا کیا کہنا ہے جو ٹکسالی آنکھیں ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 37)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY