غبار درد سے سارا بدن اٹا نکلا

عبد الحفیظ نعیمی

غبار درد سے سارا بدن اٹا نکلا

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    غبار درد سے سارا بدن اٹا نکلا

    جسے بھی خندہ بہ لب دیکھا غم زدا نکلا

    اب احتیاط بھی اور کیا ہو بے لباس تو ہوں

    اک آستین سے مانا کہ اژدہا نکلا

    مرے خلوص پہ شک کی تو کوئی وجہ نہیں

    مرے لباس میں خنجر اگر چھپا نکلا

    لگا جو پیٹھ میں نیزہ تو سمجھے دشمن ہے

    مگر پلٹ کے جو دیکھا تو آشنا نکلا

    مرے لہو سے ہے رنگیں جبین صبح تو کیا

    چلو کہ ظلمت شب کا تو حوصلا نکلا

    یہ ہاتھ راکھ میں خوابوں کی ڈالتے تو ہو

    مگر جو راکھ میں شعلہ کوئی دبا نکلا

    سنا تھا حد تبسم ہے آنسوؤں سے قریب

    بڑھے جو آگے تو برسوں کا فاصلا نکلا

    وہ ایک حرف تمنا جو کہتے ڈرتے تھے

    زباں پہ آیا تو ان کا ہی مدعا نکلا

    کلاہ کج کیے دن بھر جو شخص پھرتا تھا

    گلی میں شام کو دیکھا تو وہ گدا نکلا

    طلوع صبح نعیمیؔ جہاں سے ہونی تھی

    اسی افق سے اندھیروں کا سلسلا نکلا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY