گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھا

بدنام نظر

گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھا

بدنام نظر

MORE BYبدنام نظر

    گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھا

    بادلوں کے اڑتے ٹکڑوں میں ترا چہرا سا تھا

    پھر کبھی مل جائے شاید زندگی کی بھیڑ میں

    جس کی باتیں پیاری تھیں اور نام کچھ اچھا سا تھا

    جاں بلب ہونے لگا ہے پیاس کی شدت سے وہ

    خشک ریگستان میں اک شخص جو دریا سا تھا

    گھر گیا ہے اب تو شعلوں میں مرا سارا وجود

    اس کی یادیں تھیں تو سر پر اک خنک سایا سا تھا

    اس نے اچھا ہی کیا رشتوں کے دھاگے توڑ کر

    میں بھی کچھ اکتا گیا تھا وہ بھی کچھ اوبا سا تھا

    شہر کی ایک ایک شے اپنی جگہ پر ہے نظرؔ

    کیا ہوا وہ آدمی کچھ کچھ جو دیوانا سا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY