گم صم ہوا کے پیڑ سے لپٹا ہوا ہوں میں

افضل منہاس

گم صم ہوا کے پیڑ سے لپٹا ہوا ہوں میں

افضل منہاس

MORE BYافضل منہاس

    گم صم ہوا کے پیڑ سے لپٹا ہوا ہوں میں

    کتبے پہ اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ہوں میں

    آنکھوں میں وسوسوں کی نئی نیند بس گئی

    سو جاؤں ایک عمر سے جاگا ہوا ہوں میں

    یا رب رگوں میں خون کی حدت نہیں رہی

    یا کرب کی صلیب پہ لٹکا ہوا ہوں میں

    اپنی بلندیوں سے گروں بھی تو کس طرح

    پھیلی ہوئی فضاؤں میں بکھرا ہوا ہوں میں

    پتے گرے تو اور بھی آسیب بن گئے

    وہ شور ہے کہ خود سے بھی سہما ہوا ہوں میں

    شاخوں سے ٹوٹنے کی صدا دور تک گئی

    محسوس ہو رہا ہے کہ ٹوٹا ہوا ہوں میں

    وہ آگ ہے کہ ساری جڑیں جل کے رہ گئیں

    وہ زہر ہے کہ پھول سے کانٹا ہوا ہوں میں

    کٹتے ہوئے تنے کا بھی نوچا گیا لباس

    گر کر زمیں پہ اور بھی رسوا ہوا ہوں میں

    افضلؔ میں سوچتا ہوں یہ کیا ہو گیا مجھے

    مٹی ملی تو اور بھی چٹخا ہوا ہوں میں

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 339)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY