گمرہی کا مری سامان ہوا جاتا ہے

عبید الرحمان

گمرہی کا مری سامان ہوا جاتا ہے

عبید الرحمان

MORE BYعبید الرحمان

    گمرہی کا مری سامان ہوا جاتا ہے

    راستہ زیست کا آسان ہوا جاتا ہے

    اک طرف روح کہ پرواز کو جیسے تیار

    اک طرف جسم کہ بے جان ہوا جاتا ہے

    دشت غربت ہے کہ آباد ہمارے دم سے

    گھر کا آنگن ہے کہ ویران ہوا جاتا ہے

    کیوں نہ پھر دھوپ بھی بن جائے گھٹا جب ہم پر

    آپ کا سایۂ مژگان ہوا جاتا ہے

    کہہ دیا آپ نے کیا کان میں چپکے سے اسے

    دل میں برپا مرے ہیجان ہوا جاتا ہے

    آپ کی میری ہی غزلوں کی ہیں کترن ساری

    جن سے وہ صاحب دیوان ہوا جاتا ہے

    دی ہے چپکے سے عبیدؔ اس نے لبوں پر دستک

    شور برپا تہ شریان ہوا جاتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Soch Abshar (Poetry) (Pg. 69)
    • Author : Obaidur Rahman
    • مطبع : Sehla Obaid (2007)
    • اشاعت : 2007

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY