گزر کر آدمی راہ مصیبت سے سنورتا ہے

ناز مرادآبادی

گزر کر آدمی راہ مصیبت سے سنورتا ہے

ناز مرادآبادی

MORE BYناز مرادآبادی

    گزر کر آدمی راہ مصیبت سے سنورتا ہے

    قمر کا نور شب کی ظلمتوں میں ہی نکھرتا ہے

    بجز درد حیات غم نہیں ملتا کہیں کچھ بھی

    بشر دنیائے فانی میں جہاں سے بھی گزرتا ہے

    گلوں کی پتیاں جیسے گلوں سے روٹھ جاتی ہیں

    دم تنہائی غم کچھ مرا دل یوں بکھرتا ہے

    بہ صورت قطرۂ شبنم ہوں میں خار گلستاں پر

    مرا دل زحمت مہر درخشاں سے بھی ڈرتا ہے

    یہ دیکھا ہے نہیں بے فیض آمد ابر نیساں کی

    کوئی انجام ہوتا ہے بشر جو کچھ بھی کرتا ہے

    فرشتوں کا گزر جن منزلوں سے غیر ممکن ہے

    بشر کی عظمتیں دیکھو وہاں سے بھی گزرتا ہے

    نکوہش ناخن ناداں پہ قابو پا ہی جاتی ہے

    بڑا پرہیز کرتے ہیں کہیں تب زخم بھرتا ہے

    سنبھل اے فرقۂ عشاق اب پھر امتحاں ہوگا

    سر چلمن کسی کافر کا پھر گیسو سنورتا ہے

    الجھتے ہیں ترے کوچے میں جو مرغ چمن کے پیر

    دم پرواز گلشن سے کسی کا دل بھی بھرتا ہے

    فنا کرتا ہے پہلے زندگی کی ہر تمنا کو

    کہیں تب جا کے انساں پستئ غم سے ابھرتا ہے

    اسی باعث وفور غم میں اکثر نازؔ ہنستے ہیں

    مصیبت اور بڑھتی ہے جو غم سے جتنا ڈرتا ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY