حالانکہ یہ بر وقت کہانی نہیں لکھتی
حالانکہ یہ بر وقت کہانی نہیں لکھتی
تاریخ مگر خون کو پانی نہیں لکھتی
اک ایسی عدالت میں ہے درخواست ہماری
افسوس جو زانی کو بھی زانی نہیں لکھتی
میں اس لئے زندہ ہوں کہ میں بول رہا ہوں
دنیا کسی گونگے کی کہانی نہیں لکھتی
ہر عمر کا احساس بدل دیتا ہے کپڑے
روداد لڑکپن کی جوانی نہیں لکھتی
میں بھی کبھی زخموں کی نمائش نہیں کرتا
وہ بھی کبھی ماضی کی کہانی نہیں لکھتی
گھر کو کبھی ملبہ نہیں کہتی ہے محبت
وہ اپنی حویلی کو پرانی نہیں لکھتی
نقصان وسیمؔ اس میں ہے دنیا کا ہی لیکن
پھر بھی وہ مری تلخ بیانی نہیں لکھتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.