ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے

فراق گورکھپوری

ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے

فراق گورکھپوری

MORE BYفراق گورکھپوری

    ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے

    چھوٹ جائے تو وہی اپنا گریباں ہو جائے

    عشق اب بھی ہے وہ محرم بیگانہ نما

    حسن یوں لاکھ چھپے لاکھ نمایاں ہو جائے

    ہوش و غفلت سے بہت دور ہے کیفیت عشق

    اس کی ہر بے خبری منزل عرفاں ہو جائے

    یاد آتی ہے جب اپنی تو تڑپ جاتا ہوں

    میری ہستی ترا بھولا ہوا پیماں ہو جائے

    آنکھ وہ ہے جو تری جلوہ گہہ ناز بنے

    دل وہی ہے جو سراپا ترا ارماں ہو جائے

    پاک بازان محبت میں جو بے باکی ہے

    حسن گر اس کو سمجھ لے تو پشیماں ہو جائے

    سہل ہو کر ہوئی دشوار محبت تیری

    اسے مشکل جو بنا لیں تو کچھ آساں ہو جائے

    عشق پھر عشق ہے جس روپ میں جس بھیس میں ہو

    عشرت وصل بنے یا غم ہجراں ہو جائے

    کچھ مداوا بھی ہو مجروح دلوں کا اے دوست

    مرہم زخم ترا جور‌ پشیماں ہو جائے

    یہ بھی سچ ہے کوئی الفت میں پریشاں کیوں ہو

    یہ بھی سچ ہے کوئی کیوں کر نہ پریشاں ہو جائے

    عشق کو عرض تمنا میں بھی لاکھوں پس و پیش

    حسن کے واسطے انکار بھی آساں ہو جائے

    جھلملاتی ہے سر بزم جہاں شمع خودی

    جو یہ بجھ جائے چراغ رہ عرفاں ہو جائے

    سر شوریدہ دیا دشت و بیاباں بھی دیے

    یہ مری خوبیٔ قسمت کہ وہ زنداں ہو جائے

    عقدۂ عشق عجب عقدۂ مہمل ہے فراقؔ

    کبھی لاحل کبھی مشکل کبھی آساں ہو جائے

    RECITATIONS

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے خالد مبشر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY