ہاتھ پھیلاؤ تو سورج بھی سیاہی دے گا

فضا ابن فیضی

ہاتھ پھیلاؤ تو سورج بھی سیاہی دے گا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    ہاتھ پھیلاؤ تو سورج بھی سیاہی دے گا

    کون اس دور میں سچوں کی گواہی دے گا

    سوز احساس بہت ہے اسے کم تر مت جان

    یہی شعلہ تجھے بالیدہ نگاہی دے گا

    یوں تو ہر شخص یہ کہتا ہے کھرا سونا ہوں

    کون کس روپ میں ہے وقت بتا ہی دے گا

    ہوں پر امید کہ سب آستیں رکھتے ہیں یہاں

    کوئی خنجر تو مری پیاس بجھا ہی دے گا

    شب گزیدہ کو ترے اس کی خبر ہی کب تھی

    دن جو آئے گا غم لا متناہی دے گا

    آئنہ صاف دل اتنا بھی نہیں اب کہ تمہیں

    اصل چہرے کے خط و خال دکھا ہی دے گا

    تیرے ہاتھوں کا قلم ہے جو عصائے درویش

    یہی اک دن تجھے خورشید کلاہی دے گا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہاتھ پھیلاؤ تو سورج بھی سیاہی دے گا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY