ہے ماہ کہ آفتاب کیا ہے

مصحفی غلام ہمدانی

ہے ماہ کہ آفتاب کیا ہے

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    ہے ماہ کہ آفتاب کیا ہے

    دیکھو تو تہ نقاب کیا ہے

    میں نے تجھے تو نے مجھ کو دیکھا

    اب مجھ سے تجھے حجاب کیا ہے

    آئے ہو تو کوئی دم تو بیٹھو

    اے قبلہ یہ اضطراب کیا ہے

    اس بن ہمیں جاگتے ہی گزری

    جانا بھی نہ یہ کہ خواب کیا ہے

    مجھ کو بھی گنے وہ عاشقوں میں

    اس بات کا سو حساب کیا ہے

    سیپارۂ دل کو دیکھ اس نے

    پوچھا بھی نہ یہ کتاب کیا ہے

    اس مے کدۂ جہاں میں یارو

    مجھ سا بھی کوئی خراب کیا ہے

    قسمت میں ہماری مصحفیؔ ہائے

    کیا جانے ثواب عذاب کیا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(awwal) (Pg. 435)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY