ہے مرے پہلو میں اور مجھ کو نظر آتا نہیں

ولی اللہ محب

ہے مرے پہلو میں اور مجھ کو نظر آتا نہیں

ولی اللہ محب

MORE BYولی اللہ محب

    ہے مرے پہلو میں اور مجھ کو نظر آتا نہیں

    اس پری کا سحر یارو کچھ کہا جاتا نہیں

    اشک کی بارش میں دل سے غم نکل آتا نہیں

    گھر سے باہر مینہ برسنے میں کوئی جاتا نہیں

    چاک جیب اپنے کو میں بھی جوں گریبان سحر

    ناصحا تا دامن محشر تو سلواتا نہیں

    شمع ساں رشتے پر الفت کے لگا دیتے ہیں سر

    عاشق اور معشوق سا بھی دوسرا ناتا نہیں

    بسکہ تیرے ہجر میں ہے نا گوارا اکل و شرب

    دل بجز خون جگر اے جان کچھ کھاتا نہیں

    میں ہی تم سب کا بنا تیر ملامت کا نشاں

    اس بت سرکش کو یارو کوئی سمجھاتا نہیں

    وائے یہ غفلت کہ دریا بیچ قطرے کی طرح

    آپ ہی میں آپ کو ڈھونڈوں ہوں اور پاتا نہیں

    ترک عشق اس سرو بالا کا کیا ہے جب سے دل

    عالم بالا سے بالائی خبر لاتا نہیں

    بسکہ ہے ہم رنگ واشد سے محبؔ اس باغ میں

    دل کو غیر از غنچۂ تصویر کچھ بھاتا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY