ہے نسیم صبح آوارہ اسی کے نام پر

اختر سعید

ہے نسیم صبح آوارہ اسی کے نام پر

اختر سعید

MORE BY اختر سعید

    ہے نسیم صبح آوارہ اسی کے نام پر

    بوئے گل ٹھہری ہوئی ہے جس کلی کے نام پر

    کچھ نہ نکلا دل میں داغ حسرت دل کے سوا

    ہائے کیا کیا تہمتیں تھیں آدمی کے نام پر

    پھر رہا ہوں کو بہ کو زنجیر رسوائی لیے

    ہے تماشا سا تماشا زندگی کے نام پر

    اب یہ عالم ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں سر

    مار ڈالا ایک بت نے بندگی کے نام پر

    کچھ علاج ان کا بھی سوچا تم نے اے چارہ گرو

    وہ جو دل توڑے گئے ہیں دلبری کے نام پر

    کوئی پوچھے میرے غم خواروں سے تم نے کیا کیا

    خیر اس نے دشمنی کی دوستی کے نام پر

    کوئی پابندی ہے ہنسنے پر نہ رونا جرم ہے

    اتنی آزادی تو ہے دیوانگی کے نام پر

    آپ ہی کے نام سے پائی ہے دل نے زندگی

    ختم ہوگا اب یہ قصہ آپ ہی کے نام پر

    کاروان صبح یارو کون سی منزل میں ہے

    میں بھٹکتا پھر رہا ہوں روشنی کے نام پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY