ہے شوق تو بے ساختہ آنکھوں میں سمو لو

رشید قیصرانی

ہے شوق تو بے ساختہ آنکھوں میں سمو لو

رشید قیصرانی

MORE BYرشید قیصرانی

    ہے شوق تو بے ساختہ آنکھوں میں سمو لو

    یوں مجھ کو نگاہوں کے ترازو میں نہ تولو

    میں بھی ہوں کسی آنکھ سے ٹپکا ہوا موتی

    مجھ کو بھی کسی ریشمی ڈوری میں پرو لو

    لایا ہوں میں خود دل کو ہتھیلی پہ سجا کر

    اس جنس کے بازار میں کیا دام ہیں بولو

    میں کانچ کے ٹکڑوں کی طرح بکھرا پڑا ہوں

    بھولے سے کبھی مجھ کو بھی پاؤں میں چبھو لو

    پھر جانئے کب وقت کی رفتار تھمے گی

    ٹھہرے ہوئے لمحے کو نگاہوں میں پرو لو

    اب کوئی بکھیرے گا کڑی دھوپ میں گیسو

    خود اپنے ہی دل کے کسی تہہ خانے میں سو لو

    دن بھر تو رشیدؔ آپ کو ہنسنا ہی پڑے گا

    رونا ہے تو اب رات کی تنہائی میں رو لو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY