ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کا

امام بخش ناسخ

ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کا

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کا

    مشغلہ آٹھ پہر ہے یہی تنہائی کا

    عشق میں رشک ہمیشہ سے چلا آتا ہے

    دیکھو قابیل نے کیا حال کیا بھائی کا

    جام سائل کی طرح ہیں مری آنکھیں در در

    جب سے عاشق کسی کافر شیدائی کا

    عشق کامل جو ہوا ننگ کہاں عار کہاں

    دھیان بدمست کو رہتا نہیں رسوائی کا

    ہجر میں گردش بیہودہ جو ہے اے ساقی

    جام کیا کاسۂ سر ہے کسی سودائی کا

    میری آنکھوں نے تجھے دیکھ کے وہ کچھ دیکھا

    کہ زبان مژہ پر شکوہ ہے بینائی کا

    قدم اغیار کا رکھنا ہو گوارا کیوں کر

    تیرے در پر ہے مجھے شغل جبیں سائی کا

    مجھ سے رہتا ہے رمیدہ وہ غزال شہری

    صاف سیکھا ہے چلن آہوئے صحرائی کا

    ہجر میں چٹکے جو غنچے ہوئی آواز تفنگ

    صحن گلزار ہے میدان صف آرائی کا

    جس نے دیکھا تجھے اے یار ہوا دیوانہ

    ہے تماشا ترے ہر ایک تماشائی کا

    سبزہ رنگوں کا یہ ہے خاک مقرر ناسخؔ

    سبز رنگ اس لیے آتا ہے نظر کائی کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY