ہم آج کل ہیں نامہ نویسی کی تاؤ پر

امداد علی بحر

ہم آج کل ہیں نامہ نویسی کی تاؤ پر

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    ہم آج کل ہیں نامہ نویسی کی تاؤ پر

    دن بھر کبوتروں کو بھگاتے ہیں باؤ پر

    رندوں کو ایک روز تو دریا دلی دکھا

    کشتیٔ مے کو چھوڑ دے ساقی بہاؤ پر

    لکھوں وہ شعر عارض رنگیں کی وصف بیں

    تختہ چمن کا صدقے ہوں کاغذ کی ناؤ پر

    کچھ حاجت کباب نہیں کیف عشق میں

    سیخیں دل و جگر کی لگیں ہیں الاؤ پر

    بے منت جہان تنک ظرف اگر ملے

    واللہ پھر تو چرب ہے خشکا پلاؤ پر

    قانع کی منہ سے نعمت دنیا خفیف ہے

    بھاری ہے پاؤ نان پر مری نان پاؤ پر

    آفت نشان ہیں دیدۂ فتاں کی پتلیاں

    تشہیر سامری کو کریں گے یہ گاؤ پر

    بازیچہ گاہ عشق میں وہ ہوں قمار باز

    دونوں جہان رکھ دیے ہیں ایک داؤ پر

    کیوں کر براتیوں سے نہ گھونگھٹ کرے دلہن

    ساری سبھا مٹی ہے تمہارے بناؤ پر

    گل گشت کی ہوس چمنستاں کی آرزو

    اے بے قراریو مرے دل کو لگاؤ پر

    کرتا ہوں میں جو مرہم کافور کی تلاش

    کرتی ہے چاندنی مری سینے کے گھاؤ پر

    کشتیٔ مے لگی رہی ساقی لبوں کے گھاٹ

    ہم مے کشوں کا قافلہ ہے چل چلاؤ پر

    میں جل میں آ گیا وہ نہ آیا فریب میں

    میں زد پہ چڑھ گیا وہ نہ ٹھیرا لگاؤ پر

    پروانے کی طرح نہ بجھا دے چراغ حسن

    طوطیٔ خط کے آتش رخ سے جلاؤ پر

    علم سفینہ اس کو تجھے علم سینہ بحرؔ

    تو پل پر اور شیخ ہے کاغذ کی ناؤ پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY