ہم باغ تمنا میں دن اپنے گزار آئے

ارم لکھنوی

ہم باغ تمنا میں دن اپنے گزار آئے

ارم لکھنوی

MORE BYارم لکھنوی

    ہم باغ تمنا میں دن اپنے گزار آئے

    آئے نہ بہار آخر شاید نہ بہار آئے

    رنگ ان کے تلون کا چھایا رہا محفل پر

    کچھ سینہ فگار اٹھے کچھ سینہ فگار آئے

    فطرت ہی محبت کی دنیا سے نرالی ہے

    ہو درد سوا جتنا اتنا ہی قرار آئے

    کیا حسن طبیعت ہے کیا عشق کی زینت ہے

    دل مٹ کے قرار آئے رنگ اڑ کے نکھار آئے

    در سے ترے ٹکرایا اک نعرۂ مستانہ

    بے نام لیے تیرا ہم تجھ کو پکار آئے

    تصویر بنی دیکھی اک جان تمنا کی

    آنسو مری آنکھوں میں کیا سلسلہ وار آئے

    کچھ ان سے نہ کہنا ہی تھی فتح محبت کی

    جیتی ہوئی بازی کو ہم جان کے ہار آئے

    اس درجہ وہ پیارے ہیں کہتے ہی نہیں بنتا

    کیا اور کہا جائے جب اور بھی پیار آئے

    اس بزم میں ہم آخر پہنچے بھی تو کیا پایا

    دل ہی کی دبی چوٹیں کچھ اور ابھار آئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ارم لکھنوی

    ارم لکھنوی

    نامعلوم

    نامعلوم

    اقبال بانو

    اقبال بانو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY