ہم ہیں قفس ہے اور خیال آشیاں کے ہیں
ہم ہیں قفس ہے اور خیال آشیاں کے ہیں
سارے یہ گل کھلائے ہوئے باغباں کے ہیں
ہر ذرہ کوئے یار کا گردش پسند ہے
ہے تو زمین رنگ مگر آسماں کے ہیں
گم گشتگان راہ حقیقت کا حال کیا
خود رہنما وہ خضر رہ لا مکاں کے ہیں
منزل کی کچھ خبر بھی ہے کوسوں نکل گئی
غربت نصیب تیرے ارادے کہاں کے ہیں
بسملؔ سے کہہ دو آج عیاں کر دیں راز دل
کیوں زیر بار منت ضبط فغاں کے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.