ہم جو اک لہر میں لہراتے ہوئے جھومتے ہیں

فضل گیلانی

ہم جو اک لہر میں لہراتے ہوئے جھومتے ہیں

فضل گیلانی

MORE BYفضل گیلانی

    ہم جو اک لہر میں لہراتے ہوئے جھومتے ہیں

    کیوں نہ ایسا ہو کہ ہم ساتھ ترے جھومتے ہیں

    رقص درویش کا یہ سلسلہ دنیا سے نہ جوڑ

    ہم کسی اور ہی لذت کے لیے جھومتے ہیں

    ایسی منزل پہ لے آیا ہے مرا رقص مجھے

    اب کئی سلسلے بھی ساتھ مرے جھومتے ہیں

    ڈول جائے نہ ترے ڈولنے سے پرتو نور

    تیرے ہم راہ کئی شمع کدے جھومتے ہیں

    ذرا دیکھو تو سہی اہل محبت کی طرف

    کتنی سرمستیاں آنکھوں میں لیے جھومتے ہیں

    روشنی راز ہے ایسا کہ سمجھ آنے پر

    کتنے سر گھومتے ہیں کتنے دیے جھومتے ہیں

    میں اکیلا تو نہیں جھوم رہا ہوں سیدؔ

    تارے بھی ساتھ مرے رات گئے جھومتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY