ہم کو منظور تمہارا جو نہ پردا ہوتا

وحید اختر

ہم کو منظور تمہارا جو نہ پردا ہوتا

وحید اختر

MORE BY وحید اختر

    ہم کو منظور تمہارا جو نہ پردا ہوتا

    سارا الزام سر اپنے ہی نہ آیا ہوتا

    دوست احباب بھی بے گانے نظر آتے ہیں

    کاش اک شخص کو اتنا بھی نہ چاہا ہوتا

    مفت مانگا تھا کسی نے سو اسے بخش دیا

    ایسا سستا بھی نہ تھا دل جسے بیچا ہوتا

    جان کر ہم نے کیا خود کو خراب و رسوا

    ورنہ ہم وہ تھے فرشتوں نے بھی پوجا ہوتا

    اہل دنیا کو بہت ہم سے بھی امیدیں تھیں

    زندگی تجھ سے مگر اپنا نہ جھگڑا ہوتا

    ناصحو ہم کو بھی انجام جنوں ہے معلوم

    اس کو سمجھاؤ جو یہ سب نہ سمجھتا ہوتا

    وہ خرد مند وہ باہوش وحیدؔ آج کہاں

    ملنے والوں سے کبھی تم نے یہ پوچھا ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY