ہم ناقصوں کے دور میں کامل ہوئے تو کیا

امداد علی بحر

ہم ناقصوں کے دور میں کامل ہوئے تو کیا

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    ہم ناقصوں کے دور میں کامل ہوئے تو کیا

    اجڑے ہوئے علاقے کے عامل ہوئے تو کیا

    ہم کو تو افتخار ہے پیغام یار پر

    جبریل آسمان سے نازل ہوئے تو کیا

    مدت سے پھر رہی ہے چھری جان زار پر

    ہم آج تیغ یار سے بسمل ہوئے تو کیا

    داغوں میں اس کے داغ محبت کی بو کہاں

    لالے کے پھول ہم سے مقابل ہوئے تو کیا

    راحت نصیب ہم کو ہوئی رحمت اے کریم

    ٹکرا کے سر بہشت میں داخل ہوئے تو کیا

    پھولوں میں زر لٹا نہ گل سرخ کا کبھی

    بے فیض لوگ رونق محفل ہوئے تو کیا

    اس کی صفت یہی ہے کہ بے مانگے دی مراد

    درگاہ میں کریم کے سائل ہوئے تو کیا

    آسان ہیں جو ناخن تقدیر تیز ہے

    مطلب ہمارے عقدۂ مشکل ہوئے تو کیا

    مردوں کو زندہ کیجیے نام آوری یہ ہے

    عیسیٰ بناؤ آپ کو قاتل ہوئے تو کیا

    ہر دم چراغ دل کی ادھر لو لگی رہے

    ہم اپنی یادگار سے غافل ہوئے تو کیا

    ہوگا نہ ایک رنگ خزان و بہار کا

    بوڑھے اگر جوانوں کے شامل ہوئے تو کیا

    اپنے مآل کار سے جب بے خبر ہوئے

    حافظ ہوئے تو خاک جو فاصل ہوئے تو کیا

    تن سے مفارقت نہیں کرتی تب فراق

    تعویذ بھی گلے میں حمائل ہوئے تو کیا

    اے بحرؔ باغبان کی منت بلا کرے

    دو چار پھول باغ سے حاصل ہوئے تو کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY