ہم نے اس دھوپ سے اماں کے لئے

صباحت عروج

ہم نے اس دھوپ سے اماں کے لئے

صباحت عروج

MORE BYصباحت عروج

    ہم نے اس دھوپ سے اماں کے لئے

    جسم تانے ہیں سائباں کے لئے

    آنکھ منظر سے آشنا ہی نہیں

    لفظ ڈھونڈے ہیں پھر زباں کے لئے

    مجھ پہ پھینکے گئے تھے جو پتھر

    میں نے رکھے ہیں وہ مکاں کے لئے

    خود فریبی تو اب نہیں ممکن

    خواب دیکھے ہیں بس جہاں کے لئے

    ہم جو بھیجے گئے ہیں دنیا میں

    ایک طعنہ ہیں آسماں کے لئے

    کوئی خواہش ادھوری رہ جائے

    کوئی حیلہ ہو اب فغاں کے لئے

    جن کی منزل انہیں میسر ہو

    وہ نکلتے ہیں پھر کہاں کے لئے

    ہم اداسی کی اک شبیہ ہیں اب

    استعارہ ہیں ہم خزاں کے لئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY