ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاں

پیرزادہ قاسم

ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاں

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاں

    شام ہوئی تو تھی کہیں صبح ہوئی مگر کہاں

    دانہ و دام سے پرے میری اڑان یاد کر

    مجھ کو تلاش کر نہ دیکھ رکھے ہیں بال و پر کہاں

    عشق حصار ذات سے دور بہت نکل گیا

    ایسے میں جبر وقت بھی ہوتا ہے کارگر کہاں

    ولولہ ہائے شوق سب صرف مہاجرت ہوئے

    اب سر منزل وفا ڈھونڈ رہے ہو گھر کہاں

    چھوڑ کے کاروان شوق منزل غم پہ کر قیام

    مثل غبار کارواں پھرتا ہے در بہ در کہاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY