ہم شاید کچھ ڈھونڈ رہے تھے یاد آیا تو روتے ہیں

شاذ تمکنت

ہم شاید کچھ ڈھونڈ رہے تھے یاد آیا تو روتے ہیں

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    ہم شاید کچھ ڈھونڈ رہے تھے یاد آیا تو روتے ہیں

    تازہ تازہ اس کو کھو کر جانے کیا کیا کھوتے ہیں

    ایک طرف یہ دنیا داری ایک طرف وہ خلوت غم

    دنیا والو ہر محفل میں دیکھو ہم بھی ہوتے ہیں

    پہلی کرن کا دھڑکا کیا کیا دل کو مسکتا جائے ہے

    بھور بھئے جب کنج میں غنچے منہ شبنم سے دھوتے ہیں

    تجھ کو ترے گل پھول مبارک یاں ضد ٹھہری جینے سے

    ہم تو اپنی راہ میں پیارے چن چن کانٹے بوتے ہیں

    تیرے دکھ سکھ تو ہی جانے ہم نے بس اتنا جانا ہے

    تجھ سے پہلے جاگ اٹھتے ہیں تیرے بعد ہی سوتے ہیں

    سیج کو سونا کر گئے خوباں شکن شکن فریاد کرے

    پہلو پہلو چونک اٹھے ہم کروٹ کروٹ روتے ہیں

    اس نے باغ سے جاتے جاتے موسم گل بھی باندھ لیا

    شاذؔ کو دیکھو دیوانے ہیں بیٹھے ہار پروتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Shaz Tamkanat (Pg. 285)
    • Author : Shaz Tamkanat
    • مطبع : Educational Publishing House (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY