ہم شہر کی دیواروں میں کھنچ آئے ہیں یارو

محشر بدایونی

ہم شہر کی دیواروں میں کھنچ آئے ہیں یارو

محشر بدایونی

MORE BYمحشر بدایونی

    ہم شہر کی دیواروں میں کھنچ آئے ہیں یارو

    محسوس کیا تھا کہ ادھر سائے ہیں یارو

    رہنے بھی دو کیا پوچھ کے زخموں کا کرو گے

    یہ زخم اگر تم نے نہیں کھائے ہیں یارو

    چھیڑو کوئی بات ایسی کہ احساس کو بدلے

    ہم آج ذرا گھر سے نکل آئے ہیں یارو

    کیا سوچتے ہو تازہ لہو دیکھ کے سر میں

    اک دوست نما سنگ سے ٹکرائے ہیں یارو

    ایسے بھی نہ چپ ہو کہ پشیمان ہو جیسے

    کچھ تم نے یہ صدمے نہیں پہنچائے ہیں یارو

    انداز تمہیں ہوگا کہ بات ایسی ہی کچھ ہے

    ورنہ کبھی ہم ایسے بھی گھبرائے ہیں یارو

    وہ قصے جو سن لیتے تھے ہم از رہ اخلاق

    اب اپنے یہاں وقت نے دہرائے ہیں یارو

    اب تم کو سناتے ہیں کہ احساس کی تہہ سے

    ایک نغمہ بہت ڈوب کے ہم لائے ہیں یارو

    جاتے ہیں کہ گزرا ہے یہ دن جن کی خزاں میں

    آنکھوں میں بہار ان کے لئے لائے ہیں یارو

    مآخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Mahshar Badayuni (Pg. 111)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY