ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے
ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے
سر تا قدم نگاہ و زباں بن کے رہ گئے
پلٹے مقدرات کچھ اس طور سے کہ ہم
تصویر انقلاب جہاں بن کے رہ گئے
مظلوم دل کی تلخ نوائی تو دیکھنا
نغمے جو لب تک آئے فغاں بن کے رہ گئے
اب ہم ہیں اور حقیقت آلام ہے شکیلؔ
لمحے خوشی کے خواب گراں بن کے رہ گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.