ہم زاد ہے غم اپنا شاداں کسے کہتے ہیں

امداد علی بحر

ہم زاد ہے غم اپنا شاداں کسے کہتے ہیں

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    ہم زاد ہے غم اپنا شاداں کسے کہتے ہیں

    واقف نہیں عشرت کا ساماں کسے کہتے ہیں

    بیمار محبت ہیں ہم تارک راحت ہیں

    ناواقف صحت ہیں درماں کسے کہتے ہیں

    مدت سے یہ ساماں ہے تن شعلۂ عریاں ہے

    کیا چیز گریباں ہے داماں کسے کہتے ہیں

    ماتھے پہ پسینہ ہے قدرت کا تماشا ہے

    تاروں کی جھمک کیا ہے افشاں کسے کہتے ہیں

    دل دے کے جفا سہیے آفت میں پھنسے رہیے

    دانا جو ہمیں کہیے ناداں کسے کہتے ہیں

    جب یار نے دیکھا ہے اک زخم لگایا ہے

    سو تیروں کا دستا ہے مژگاں کسے کہتے ہیں

    اس ترک کی پلکوں سے محفوظ خدا رکھے

    بر کٹتے ہیں تیروں کی پیکاں کسے کہتے ہیں

    دل کی جو زراعت ہے خار و خس زحمت سے

    اک قطرے کی حسرت ہے باراں کسے کہتے ہیں

    سچ کہتے ہیں یہ زیرک ہے عشق جنوں بے شک

    واقف نہ تھے ہم گل تک زنداں کسے کہتے ہیں

    ہر وقت ہے بے زاری ہر دم ہے جفاکاری

    دل جوئی و دل داریٔ جاناں کسے کہتے ہیں

    رخسار کا شیدا ہوں کیا گل کو سمجھتا ہوں

    محو خط زیبا ہوں ریحاں کسے کہتے ہیں

    مدت سے ہے دل برہم صحبت سے نہیں محرم

    آزاد ہیں گھر سے ہم مہماں کسے کہتے ہیں

    جاتے ہیں کبھی درگاہ شیوالے میں بھی ہے راہ

    مذہب سے نہیں آگاہ ایماں کسے کہتے ہیں

    حیدر سے تولا‌ ہے رحمت کا بھروسا ہے

    اے بحرؔ خطا کیا ہے عصیاں کسے کہتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY