ہمارا حال تو وہ خیر کیا ہی سمجھے گا
ہمارا حال تو وہ خیر کیا ہی سمجھے گا
ہے بے وفا تو ہمیں بے وفا ہی سمجھے گا
ہماری سادہ بیانی سمجھ نہیں پاتا
ذہین ہے وہ بہت فلسفہ ہی سمجھے گا
ہماری بات نہ سمجھو گے عقل والو تم
ہماری بات کوئی سرپھرا ہی سمجھے گا
جلا ہوں تیری طرح میں بھی روشنی کے لئے
دیے کا درد تو آخر دیا ہی سمجھے گا
لبوں پہ تیرتی مسکان کے پس پردہ
چھپے ہیں غم یہ کوئی مسخرہ ہی سمجھے گا
تری شکایتیں ساری خدا سے کرنی ہیں
تو اب یہ جان لے تجھ کو خدا ہی سمجھے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.