ہمارے ہاتھ میں جب کوئی جام آیا ہے

آل احمد سرور

ہمارے ہاتھ میں جب کوئی جام آیا ہے

آل احمد سرور

MORE BYآل احمد سرور

    ہمارے ہاتھ میں جب کوئی جام آیا ہے

    تو لب پہ کتنے ہی پیاسوں کا نام آیا ہے

    کہاں کا نور یہاں رات ہو گئی گہری

    مرا چراغ اندھیروں کے کام آیا ہے

    یہ کیا غضب ہے جو کل تک ستم رسیدہ تھے

    ستم گروں میں اب ان کا بھی نام آیا ہے

    تمام عمر کٹی اس کی جستجو کرتے

    بڑے دنوں میں یہ طرز کلام آیا ہے

    بڑھوں تو راکھ بنوں مڑ چلوں تو پتھرا جاؤں

    سفر میں شوق کے نازک مقام آیا ہے

    خبر بھی ہے مرے گلشن کے لالہ و گل کو

    مرا لہو بھی بہاروں کے کام آیا ہے

    وہ سرپھرے جو نگہ داریٔ جنوں میں رہے

    سرورؔ ان میں ہمارا بھی نام آیا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہمارے ہاتھ میں جب کوئی جام آیا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY