حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا

جمیل الدین عالی

حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا

جمیل الدین عالی

MORE BYجمیل الدین عالی

    حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا

    میں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا

    ذرا یہ دورئ احساس‌ حسن و عشق تو دیکھ

    کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا

    اب اس سے بڑھ کے بھی وارفتگئ دل کیا ہو

    کہ تجھ کو زیست کا حاصل بنا کے بھول گیا

    گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدت

    وہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا

    اب ایسی حیرت و وارفتگی کو کیا کہیے

    دعا کو ہاتھ اٹھائے اٹھا کے بھول گیا

    دل و جگر ہیں کہ گرمی سے پگھلے جاتے ہیں

    کوئی چراغ تمنا جلا کے بھول گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY