حقیقتوں سے الجھتا رہا فسانہ مرا

شاہد ماہلی

حقیقتوں سے الجھتا رہا فسانہ مرا

شاہد ماہلی

MORE BYشاہد ماہلی

    حقیقتوں سے الجھتا رہا فسانہ مرا

    گزر گیا ہے مجھے روند کے زمانہ مرا

    سمندروں میں کبھی تشنگی کے صحرا میں

    کہاں کہاں نہ پھرا لے کے آب و دانہ مرا

    تمام شہر سے لڑتا رہا مری خاطر

    مگر اسی نے کبھی حال دل سنا نہ مرا

    جو کچھ دیا بھی تو محرومیوں کا زہر دیا

    وہ سانپ بن کے چھپائے رہا خزانہ مرا

    وہ اور لوگ تھے جو مانگ لے گئے سب کچھ

    یہاں تو شرم تھی دست طلب اٹھا نہ مرا

    مجھے تباہ کیا التفات نے اس کے

    اسے بھی آ نہ سکا راس دوستانہ مرا

    کسے قبول کریں اور کس کو ٹھکرائیں

    انہیں سوالوں میں الجھا ہے تانا بانا مرا

    مآخذ:

    • کتاب : Kahein Kuch Nahein Hota (Pg. 104)
    • Author : Shahid Mahuli
    • مطبع : Miaar Publications (2003)
    • اشاعت : 2003

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY