ہر بدن کو اب یہاں ایسا گہن لگنے لگا

نبیل احمد نبیل

ہر بدن کو اب یہاں ایسا گہن لگنے لگا

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    ہر بدن کو اب یہاں ایسا گہن لگنے لگا

    جس کو دیکھو اب وہی بے پیرہن لگنے لگا

    جب سے ڈھالا ہے ستاروں میں نگاہ شوق کو

    چاند سے بڑھ کر تمہارا بانکپن لگنے لگا

    میری جانب پیار سے دیکھے نہ کوئی اک نظر

    حلقۂ احباب تیری انجمن لگنے لگا

    زندہ لاشوں کی طرح لگنے لگی انسانیت

    پیرہن اب آدمیت کا کفن لگنے لگا

    میں نے رکھا ہے ہمیشہ اپنی دھرتی کا بھرم

    اس لیے بھی مجھ سے وہ چرخ کہن لگنے لگا

    میں نے رکھا تھا جہاں پر پھول تیرے نام کا

    اس زمیں کا اتنا حصہ اب چمن لگنے لگا

    جب سے سچائی کے رستے کو کیا ہے منتخب

    نوک خنجر سے چھدا اپنا بدن لگنے لگا

    رفتہ رفتہ نوک خامہ پر ہوس چھانے لگی

    دھیرے دھیرے رائیگاں کار سخن لگنے لگا

    یہ جو باندھا ہے گریباں سے جنوں کے ہاتھ کو

    اہل دانش کو مگر دیوانہ پن لگنے لگا

    جس گلستاں پر لہو چھڑکا تھا ہم نے اے نبیلؔ

    ڈالی ڈالی آج وہ اک دشت و بن لگنے لگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY