ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں

محسن نقوی

ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں

    تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں

    طلوع صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں

    یہ دشت شب میں ستاروں کی ہم سفر آنکھیں

    ستم یہ کم تو نہیں دل گرفتگی کے لئے

    میں شہر بھر میں اکیلا ادھر ادھر آنکھیں

    شمار اس کی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص

    چراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں

    میں زخم زخم ہوا جب تو مجھ پہ بھید کھلا

    کہ پتھروں کو سمجھتی رہیں گہر آنکھیں

    میں اپنے اشک سنبھالوں گا کب تلک محسنؔ

    زمانہ سنگ بکف ہے تو شیشہ گر آنکھیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    مآخذ :
    • کتاب : Urdu Adab (Pg. 59)
    • Author : Iqbal Hussain
    • مطبع : Iqbal Hussain Publishers (Jan, Feb. Mar 1996)
    • اشاعت : Jan, Feb. Mar 1996

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY