ہر گھنے سائے کو بے نام و نشاں کرتا ہوا

فرید پربتی

ہر گھنے سائے کو بے نام و نشاں کرتا ہوا

فرید پربتی

MORE BYفرید پربتی

    ہر گھنے سائے کو بے نام و نشاں کرتا ہوا

    وقت گزرا خواب میرے رائیگاں کرتا ہوا

    کون آتا ہے مری راتوں کو کرنے معتبر

    کون جاتا ہے مری شمعیں دھواں کرتا ہوا

    اس نے ہنستے کھیلتے پھاندی ہے دیوار یقیں

    میں کہ خود کو پھر رہا ہوں خوش گماں کرتا ہوا

    کیا بتاؤں کس طرح پیش آئی مجھ سے زندگی

    سو نہ جاؤں میں یہی قصہ بیاں کرتا ہوا

    میری بستی سے ہے گزرا ایک لشکر اس طرح

    دودھ پیتے بچوں کو مشق سناں کرتا ہوا

    سہہ رہا ہوں دیر سے لا سمتیت کا اک عذاب

    کٹ گیا اپنوں سے خود کو آسماں کرتا ہوا

    کھو گئے گاڑھے دھویں میں شہر کے منظر تمام

    اک پرندہ رہ گیا آہ و فغاں کرتا ہوا

    کس نے رکھی ہے مری آنکھوں میں خوابوں کی قطار

    کون خواہش دل کی جاتا ہے جواں کرتا ہوا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے