ہر گھر میں کوئی تہہ خانہ ہوتا ہے

عالم خورشید

ہر گھر میں کوئی تہہ خانہ ہوتا ہے

عالم خورشید

MORE BY عالم خورشید

    ہر گھر میں کوئی تہہ خانہ ہوتا ہے

    تہہ خانے میں اک افسانہ ہوتا ہے

    کسی پرانی الماری کے خانوں میں

    یادوں کا انمول خزانہ ہوتا ہے

    رات گئے اکثر دل کے ویرانوں میں

    اک سائے کا آنا جانا ہوتا ہے

    بڑھتی جاتی ہے بے چینی ناخن کی

    جیسے جیسے زخم پرانا ہوتا ہے

    دل روتا ہے چہرا ہنستا رہتا ہے

    کیسا کیسا فرض نبھانا ہوتا ہے

    زندہ رہنے کی خاطر ان آنکھوں میں

    کوئی نہ کوئی خواب سجانا ہوتا ہے

    تنہائی کا زہر تو وہ بھی پیتے ہیں

    جن لوگوں کے ساتھ زمانہ ہوتا ہے

    صحرا سے بستی میں آ کر بھید کھلا

    دل کے اندر ہی ویرانہ ہوتا ہے

    سرمستی میں یاد نہیں رکھتا کوئی

    بزم سے اٹھ کر واپس جانا ہوتا ہے

    RECITATIONS

    عالم خورشید

    عالم خورشید

    عالم خورشید

    ہر گھر میں کوئی تہہ خانہ ہوتا ہے عالم خورشید

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY