ہر گنبد بے در میں بھی اک در ہے کہ تو ہے

منیر سیفی

ہر گنبد بے در میں بھی اک در ہے کہ تو ہے

منیر سیفی

MORE BYمنیر سیفی

    ہر گنبد بے در میں بھی اک در ہے کہ تو ہے

    پھر مجھ میں کوئی اور نواگر ہے کہ تو ہے

    اک اور ہی عالم ہے ورائے‌‌ خس و خاشاک

    اک اور ہی منظر پس منظر ہے کہ تو ہے

    تا حد نظر ایک ندی ہے کہ ہوں میں بھی

    تا‌‌ حد خیال ایک سمندر ہے کہ تو ہے

    پیوست ہیں مٹی میں مرے پاؤں کہ میں ہوں

    افلاک کے سینے پہ مرا سر ہے کہ تو ہے

    وحشت اسے کہیے نہ تحیر اسے کہیے

    میں بھول چلا تھا مجھے ازبر ہے کہ تو ہے

    دیکھوں تو ترا ہونا سہارا بھی ہے مجھ کو

    سوچوں تو مجھے ایک یہی ڈر ہے کہ تو ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY