ہر اک کو دوسرے سے عداوت ہے آج کل

قاضی محمد وکیل

ہر اک کو دوسرے سے عداوت ہے آج کل

قاضی محمد وکیل

MORE BYقاضی محمد وکیل

    ہر اک کو دوسرے سے عداوت ہے آج کل

    کہرام زندگی کی علامت ہے آج کل

    لب کھولنا ہی جرم بغاوت ہے آج کل

    جیلوں میں بند شان خطابت ہے آج کل

    سر پہ پہن کے نکلے ہیں دستار سب مگر

    عزت کہاں کسی کی سلامت ہے آج کل

    اندر کی ٹوٹ پھوٹ ہے بکھرا ہوا ہوں میں

    مجھ کو بہت ہی اپنی ضرورت ہے آج کل

    اپنی غرض سے ملتا ہے ملتا ہے جو کوئی

    سچ پوچھئے تو کس کو محبت ہے آج کل

    ہم نے پھر اپنی آس کے خیمے جلا دئے

    در پیش ہم کو اک نئی ہجرت ہے آج کل

    محفل بھی ان کی راس نہ آئی ہمیں وکیلؔ

    بے کیف سی عجیب طبیعت ہے آج کل

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 135)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY