ہر اک شکست کو اے کاش اس طرح میں سہوں

آزاد گلاٹی

ہر اک شکست کو اے کاش اس طرح میں سہوں

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    ہر اک شکست کو اے کاش اس طرح میں سہوں

    فزوں ہو اور بھی دل میں تری طلب کا فسوں

    تمہارے جسم کی جنت تو مل گئی ہے مگر

    میں اپنی روح کی دوزخ کا کیا علاج کروں

    ہنسا ہوں آج تو مجبور تھا کہ تیرے حضور

    مجھے یہ ڈر تھا اگر چپ رہا تو رو نہ پڑوں

    تمام عمر نہ بھٹکے کہیں تو میری طرح

    ہوں کشمکش میں جو کہنا ہے وہ کہوں نہ کہوں

    نہ اب پکار مجھے مدتوں کی دوری سے

    ترے قریب نہیں ہوں کہ تیری بات سنوں

    تری تلاش کو نکلوں گا اس سے پہلے مگر

    میں تیری یاد کے صحرا میں خود کو ڈھونڈ تو لوں

    وہ دیکھ لے تو نہ روئے بنا رہے آزادؔ

    میں سوچتا ہوں کہ اک بار خود پہ یوں بھی ہنسوں

    مأخذ :
    • کتاب : Mujalla Dastavez (Pg. 563)
    • Author : Aziz Nabeel
    • مطبع : Edarah Dastavez (2013-14)
    • اشاعت : 2013-14

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY