ہر انساں اپنے ہونے کی سزا ہے

عبد الحفیظ نعیمی

ہر انساں اپنے ہونے کی سزا ہے

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    ہر انساں اپنے ہونے کی سزا ہے

    بھرے بازار میں تنہا کھڑا ہے

    نئے دربانوں کے پہرے بٹھاؤ

    ہجوم درد بڑھتا جا رہا ہے

    رہے ہم ہی جو ہر پتھر کی زد میں

    ہماری سر بلندی کی خطا ہے

    مہکتے گیسوؤں کی رات گزری

    سوا نیزے پہ اب سورج کھڑا ہے

    مرے خوابوں کی چکنی سیڑھیوں پر

    نہ جانے کس کا بت ٹوٹا پڑا ہے

    وہ شعلے ہوں لہو ہو حادثے ہوں

    مری ہی زندگی پر تبصرہ ہے

    تری زلفیں تو ہیں بدنام یونہی

    مجھے دن کے اجالوں نے ڈسا ہے

    چلو چپکے سے کچھ بت اور رکھ آئیں

    در کعبہ ابھی شاید کھلا ہے

    اتر کر تو فصیل شب سے دیکھو

    سحر نے خودکشی کر لی سنا ہے

    ابھی طاق تصور پر نعیمیؔ

    چراغ لذت شب جل رہا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY