ہر موڑ نئی اک الجھن ہے قدموں کا سنبھلنا مشکل ہے

اقبال صفی پوری

ہر موڑ نئی اک الجھن ہے قدموں کا سنبھلنا مشکل ہے

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    ہر موڑ نئی اک الجھن ہے قدموں کا سنبھلنا مشکل ہے

    وہ ساتھ نہ دیں پھر دھوپ تو کیا سائے میں بھی چلنا مشکل ہے

    یاران سفر ہیں تیز قدم اے کشمکش دل کیا ہوگا

    رکتا ہوں تو بچھڑا جاتا ہوں چلتا ہوں تو چلنا مشکل ہے

    اب ہم پہ کھلا یہ راز چمن الجھا کے بہاروں میں دامن

    کانٹوں سے نکلنا آساں تھا پھولوں سے نکلنا مشکل ہے

    تابانئ حسن عالم ہے گرمئ محبت کے دم سے

    پروانے اگر محفل میں نہ ہوں پھر شمع کا جلنا مشکل ہے

    ناکامئ قسمت کیا شے ہے کیا چیز شکستہ پائی ہے

    دو گام پہ منزل ہے لیکن دو گام بھی چلنا مشکل ہے

    یا ہم سے پریشاں خوشبو تھی یا بند ہیں اب کلیوں کی طرح

    یا مثل صبا آوارہ تھے یا گھر سے نکلنا مشکل ہے

    لکھتے رہے خون دل سے جسے تائید نگاہ دوست میں ہم

    اقبالؔ اب اس افسانے کا عنوان بدلنا مشکل ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اقبال صفی پوری

    اقبال صفی پوری

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 20.02.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY